نئی دہلی، 3؍فروری(ایس او نیوز؍ایجنسی) ملک کی متعدد تنظیموں اوراشخاص کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط روانہ کرتے ہوئے اُن سے درخواست کی گئی ہے کہ ملک بھر میں رام مندر کے لئے فنڈ اکٹھا کئے جانے کی جو مہم چل رہی ہے اس میں زور و زبردستی کرنے اور امن و امان میں خلل ڈالنے کی کوششیں ہورہی ہے لہٰذا اس طرح کی زور زبردستی پر فوری طور پر روک لگائی جائے ۔
خط میں کہا گیا ہے کہ رام مندر کے لئے فنڈ اکھٹا کرنے والے کارکنوں کی طرف سے بہت سے حساس علاقوں میں امن و امان اور معاشرتی ہم آہنگی کو ختم کرنے والی سرگرمیاں انجام دی جارہی ہیں۔ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے فنڈ جمع کرنے کی مہم 25 دسمبر 2020 کو ریاست مدھیہ پردیش سے شروع ہوئی تھی جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تشدد ہوا۔ اس تشدد نے ریاست کے چار اضلاع مندسور، چندن کھیڑی(اندور) اجین اور راج گڑھ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس کی وجہ سے جیرا پورہ محلہ میں سرکاری اور نجی املاک کی بڑے پیمانے پر تباہی، بے گناہ جانوں کا ضیاع اور متعدد باشندوں کو شدید چوٹیں آئیں۔ اس تشدد کے باوجود 15 جنوری 2021سے ریاستی حکومت کی جانب سے مالوا خطے میں زور زبردستی کییہ مہم چلائی گئی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ اس طرح کی باتوں سے فرقہ وارانہ پولرازنگ اور تناؤ کے ماحول کی رہنمائی کی گئی۔
اسی طرح گزشتہ ہفتہ ایک دوسرے حادثے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب مشتہر ہوا جس میں رام مندر کے لئے فنڈ جمع کرنے کے لئے موٹر سائیکل ریلی کے دوران خاص کمیو نیٹی کے خلاف انتہائی قابل اعتراض تبصرہ کرتے ہوئے دکھایاگیاہے۔یہ ریلی ویشو ہندو پریشد کی جانب سے اترپردیش، بلند شہر ضلع اور شکارپور علاقے میں آرگنائزکی گئی تھی۔یہی نہیں وزیر برائے خوراک و شہری فراہمی، کے گوپالیہ نے ایم ایل اے پریتم گوڑا اور بی جے پی کے دیگر کارکنان کے ساتھ بیرہن ہالی، شیوا موگا میں اپنی آئینی ذمہ داریوں کو فراموش کرتے ہوئے گھر گھر جاکر فنڈ دینے کی اپیل کی۔اس موقع پر نعرے لگائے جارہے تھے اورجان بوجھ کر مخصوص علاقو ں کے راستے چنے گئے جس سے خدشات کو تقویت ملتی ہے اور اس طرح کی سرگرمیوں کے اصل مقاصد کی طرف اشارہ ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ فنڈ جمع کرنے سے زیادہ معاشرے کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنا مقصود ہے۔ان عناصر کے ذریعے خاص طور پر مسلم برادری اوردیگر تمام لوگوں میں اذیت، اشتعال اور خوف کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔خط میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ مجوزہ رام مندر کے لئے زورو زبردستی سے رقوم جمع کرنے کے خلاف فوری اور مناسب کارروائی کی جائے اور خط میں کہا گیا کہ امن و امان بحال رکھنے والی ا تھارٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ فنڈ جمع کرنے کی مہم میں کوئی جبر اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی نہ ہو۔
درخواست کنندگان میں : آل انڈیا مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد،امیرشریعت امارت شریعہ بہار مولانا ولی رحمانی، اتحاد ملت کونسل بریلی شریف کے مولانا توقیر رضا خان، جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی، جامعہ اہل حدیث کے اصغر امام مہدی، آئی او ایس کے چیئر مین ڈاکٹر منظور عالم، دہلی مائنارٹی کمیشن کے سابق چیئر مین ڈاکٹر ظفرا لاسلام خاں، ساؤتھ ایشیا ہیومن رائٹس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر روی نائر،ماہر تعلیم پروفیسر رام پونیانی، دہلییونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند، اے آئی ایم پی ایل بی کے سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، خطیب شیعہ جامع مسجد دہلی کے مولانا محسن تقوی، جمعیت علماء دہلی اسٹیٹ کے صدر مفتی عبد الرازق، پییو سی ایل کی کویتا شری واستو، ایف ڈی سی اے کے جنرل سکریٹری انجینئر محمد سلیم، گجرات کے دنکیش اوجا، راجستھان کے سوائی سنگھ اور ماہر تعلیم امبریش رائے کے نام شامل ہیں۔